Friday, July 23, 2021

Fear is no Policy, Surrender is no Option


 
جگر والوں کا ڈر سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا

امریکہ نے جب افغانستان میں پاکستان کے خلاف فالس فلیگ آپریشن شروع کیا پاکستانی کرتا دھرتا تو اسی وقت سے جانتے تھے کہ امریکہ یہاں کیوں آیا ہے،انڈیا کی تو جیسے لاٹری ہی کھل گئی کہ اب پاکستان پورے کا پورا گھیرا جا سکتا ہے۔انڈیا نے افغانستان میں را کے نیٹ ورک کو بنایا اور چلایا جبکہ ایران میں کلبھوشن یادیو جیسے ایجنٹس بیٹھا دیے،کراچی میں اینٹی پاکستان ایلیمنٹس کے ذریعے ہماری کمر پر سواری کرنے کی کوشش کی،بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کا پورا زور لگا دیا،ملک میں جگہ جگہ دھماکے، اغواء برائے تاوان کی وارداتیں عروج پر، تحریک طالبان بھی اپنا ظلم و ستم نہ صرف جاری رکھے ہوئے بلکہ اس میں روز بہ روز اضافہ بھی ہوتا چلا گیا۔
ایک وقت میں تو ایسا ہوتا تھا کہ خانہ خدا مساجد بھی ان کے شر سے محفوظ نہ رہ سکیں اور ملک میں نکمے ترین اور غلامانہ سوچ کے حامل حکمران طاقت میں آگئے،اور قوم دیکھتی ہے اور برداشت کر رہی ہے کہ اسی دوران پشاور میں معصوم بچوں کو انتقام کی آگ میں شہید کر دیا جاتا ہے!!!
اس دن روتے ہوئے پوری غیرت مند پاکستان قوم اور افواج نے فیصلہ کیا کہ ان ظالموں کو نہیں چھوڑیں گے اور اس جنگ کا جس میں دشمن نظروں کے سامنے موجود نہیں تھا، اسی جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔
ہماری غیرت مند افواج نے دشمنوں کو یہ پیغام دیا کہ یہ آگ کا کھیل ہم اچھی طرح کھیلنا جانتے ہیں،اب ہمارے جواب کا انتظار کرو اور اگلے ہی دن سے ایسا آپریشن ملک کے طول و عرض میں شروع ہو ا کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔ دشمنوں کے غلاموں پر ایسا وار کیا گیا اور اسکی کمین گاہوں کو تباہ کرنا شروع کر دیا گیا۔
دشمنوں کے زر خرید اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگنا شروع ہو گئے لیکن مار خور کے انتقام کا شکار ہونا شروع ہو گئے،بہت سوں کو واصل جہنم کر دیا گیا اور جو قابو کیے گئے ان میں ایک لطیف اللہ محسود بھی شامل تھا،جس نے ایسے ایسے انکشافات کیے کہ اداروں کے خدشات درست ثابت ہوگئے کہ ان سب کے پیچھے ہمارا ازلی دشمن افغانستان میں ہمارے ٹکڑوں پر پلنے والے نمک حراموں کو استعمال کر کے ہمارا خون بہا رہا ہے اور امریکی سب کچھ جانتے ہیں اور انکی پوری طرح مدد کرنے میں مصروف ہیں۔
ہم نے اس جنگ میں کم و بیش 80،000 لوگ اور 150 بلین ڈالر کا نقصان اٹھایا لیکن اپنی وجود اور اپنی غیرت کا سودا نہیں کیا،ہم نے اپنی بقا کی ایسی جنگ لڑی کہ جس میں بہت سے ممالک خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے لیکن شاید ہمارے نظریاتی دشمن یہ بات بھول گئے کہ 1947 میں ہمارے بڑوں نے جب یہ فیصلہ کیا کہ لاالہ الا اللہ کے ماننے والے لکیر کے اس پار رہیں گے اور اسی پر مر مٹیں گے تو تاریخ انسانی نے اتنی بڑی ہجرت دیکھی کہ اس سے پہلے ایسا نہیں ہوا۔اسی لاالہ الا اللہ کے ماننے والوں کی اولادوں نے اپنے وقت کی سپر طاقت سوویت یونین کو ایسی شکست فاش دی کہ وہ آج تک اپنے زخم چاٹ رہا ہے اور اسکے قبضے سے اتنے مسلمان آزاد کروائے کہ جتنے اس وقت پورے برصغیر میں آباد تھے اور "علامہ اقبال کے اس خواب تکمیل کی کہ اگر برصغیر میں ایک مسلمان ریاست بن گئی تو وہ سینٹرل ایشیا میں بسنے والے مسلمانوں کو لادین ریاست سوویت یونین کے ظلم و ستم سے آزادی دلائے گا جو پچھلے ڈیڑھ سو سال سے انکی غلامی میں پس رہے ہیں "،اس کو سچ ثابت کردکھایا۔
اسی لاالہ الا اللہ کے چاہنے والے ،ماننے والے اپنے پورے قد کے ساتھ ایک مرتبہ پھر کھڑے ہو گئے،اور امریکہ جو ایک وقت میں یہ کہہ رہا تھا کہ وہ یہ جنگ جیت رہا ہے ،کچھ ہی عرصے میں ساری دنیا نے اسکا یہ رونا سنا کہ پاکستان نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا ہے اور ہماری ممکنہ شکست کے پیچھے کوئی اور نہیں بلکہ پاکستانی مارخور ہے اور جبکہ مارخور یہ جانتا تھا کہ امریکہ کسی اور کے لیے نہیں بلکہ اس کے ملک کا شکار کرنے آیا تھا،شکاری کا رونا تو سب کے سامنے ہے کہ خود شکار ہو چکا ہے۔
تازہ خبر یہ آئی ہے کہ جب بگرام بیس امریکہ نے خالی کیا تو انکے جانے کا وقت جو طے تھا وہ صبح کے 9 بجے کا تھا کہ بگرام اتنے بجے افغان فوج کے حوالے کر دی جائے گی لیکن امریکی ایسے بھاگے کہ رات کی تاریکی میں 3 بجے کسی کو بتائے بغیر اڑان بھرلی،انکے ہواری افغان کمانڈر کو بھی نہیں پتہ چلا کہ امریکہ یہاں اب ہیں یا بھاگ چکے ہیں،وہ تو انہیں اگلے دن صبح کوئی 10 بجے پتہ چلا کہ امریکی تو رات کو ہی بھاگ گئے!
انشاءاللہ اللہ پاک اس خطے سے اپنے دین کو دوبارہ اٹھائے گا اور اپنے رسول برحق کی احادیث کو پورا فرمائے گا ۔
افواج پاکستان زندہ آباد

No comments:

Post a Comment

Global Anti-Corruption Sanctions Regulations 2021-UK's New Law and Corrupt Politicians

 معزز قارئین  ہمارے حکمران لوگ جب بھی ملک پاکستان میں کرپشن کر تے ہیں تو عموما پیسے کو چھپانے کے لیے یا تو سوئس بنکس کا استعمال کیا جاتا ہے ...