الحمدللہ، ہم پاکستانیوں کو اللہ پاک کا کروڑوں مرتبہ شکر ادا کرنا کرنا چاہیے کہ جس
نے ہمیں اپنے ارادوں میں کامیاب کیا اور ایک مرتبہ پھر اس دنیا نے ملاحظہ کیا کہ ہم لوگ وہ قوم ہیں جو اپنے رب کے علاوہ کسی کی نہیں مانتے۔
کچھ عرصہ پہلے امریکہ کے ایک سی آئی اے کے سابقہ اہلکار بروس ریڈل کا انٹرویو سنا جس میں انھوں نے ببانگ دہل اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکی جس جنگ کو چارلی ولسن وار کے نام سے جانتے ہیں میں اس جنگ کو ضیا الحق کی جنگ کہتا ہوں۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ضیا الحق ایک سچے اور کھرے مسلمان تھے اور وہ وہی تھے جو یہ فیصلہ کرتے تھے کہ سوویت یونین کو کب اور کتنے زور کی چوٹ لگانی ہے! یہ وہی تھے جنہوں نے ساری مسلمان دنیا سے گوریلے افغانستان میں اکٹھے کیے،اور انکو ایک سیاسی مذہبی طور پر افغانستان میں منظم کیا،یہ فیصلہ کیا کی کس مجاہدین کے گروپ کے پاس کونسی ہتھیار ہونگے۔یہ انہیں کا فیصلہ تھا کہ آئی ایس آئی کی ٹیمیں خود افغانستان جایئں گے اور خود گوریلا مجاہدین کو منظم کریں گی اور میدان جنگ میں انہیں ہدایات جاری کریں گی اور انہیں اور لادین ریاست سوویت یونین کے خلاف جہاد کو بیسویں صدی میں ماڈرن اسلحے کے ساتھ اسلامی قوانین کے مطابق شروع کیا،یہ وہی تھے جنہوں نے سٹنگر میزائل امریکہ سے لیے اور میدان جنگ میں ہوائی توازن تبدیل کر دیا۔
یہ جنگ 1979 میں شروع ہوئی اور 1989 میں ختم ہوئی اور یہ گلوبل گیم چینجر ثابت ہوئی۔ اس جنگ سے پہلے 1942 سے لے کر 1979 تک سوویت یونین نے جس بھی جنگ کو شروع کیا وہ اس نے جنگ کا اختتام اپنی جیت پر ہی کیا لیکن افغان جنگ میں ایسا کیا ہوا کہ وہ جنگ نا صرف ختم کرنے پر مجبور ہوئے بلکہ اپنا وجود بھی کھو بیٹھے۔بقول انکے کہ جنرل ضیا اپنے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر کو خود ہدایات دیتے تھے کہ میں اس کام کو اس طرح ہوتا دیکھنا چاہتا ہوں۔
محترمہ بے بےنظیر بھٹو نے اپنی کتاب میں جنرل ضیا کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ انکے والد نے جنرل ضیا الحق کو چیف آف آرمی اسٹاف بنایا اور ایک مرتبہ جب وہ انکے گھر گئیں تو سارے گھر حرمین اور روضہ رسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) کی تصاویر آویزاں تھیں،وہ واپس مڑیں اور کہا کہ آپ نے اپنے گھر کو مسجد جیسا بنایا ہوا ہے،بروس ریڈل مزید کہتے ہیں کہ ضیا الحق واقعی جہاد پر یقین رکھتے تھے،اس لیے نہیں کہ سوویت یونین کا افغانستان میں آنا پاکستان کے لیے ایک خطرہ تھا بلکہ وہ دنیا میں لادین ریاست کے وجود کے خلاف جہاد کو پر مسلمان کا فرض سمجھتے تھے۔
آج پھر تاریخ نے اپنے آپ کو دہرایا اور ایک خدا کے ماننے والوں نے دنیا پر ثابت کر دیا کہ اللہ پر یقین سے بڑھ کر کوئی دوسری چیز نہیں!
آج پھر افغانستان جسے سلطنتوں کا قبرستان کہا جاتا ہے، نے ایک اور سلطنت کی قبر کھود دی ہے اب صرف یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ میت کی تدفین کب اور کس وقت ہونی ہے۔
پاکستانی قوم،افواج اور ہمارے اداروں نے اپنے کردار سے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ چاہے ہمارا بازو مروڑا جائے یا ہم سے مطالبات کی بھرمار کر دی جائے ہم میدان جنگ میں اپنے کام کو اپنے انداز سے ہی کرتے ہیں۔
ہم نے اپنے بارڈر پر اپنا پیٹ کاٹ کر باڑ بھی نصب کر دی ہے اور آنے جانے کا طریقہ کار بھی متعین کر دیا ہے۔ افغانستان میں موجود بھارتی بھی امریکہ کے بعد اپنے "سفارت کاروں اور کام کرنے والے شہریوں" کو لے کر اور اپنا سامان چھوڑ کر بھاگ نکلے ہیں اور اپنے دو عدد سفارت خانے جلال آباد اور بامیان میں بند کر دیے ہیں۔ یہ جنگ امریکہ کے لیے تو شاید ختم ہو چکی ہے لیکن انڈیا کے لیے شاید یہ ختم نہیں ہوئی کیونکہ پچھلے بیس سالوں میں انڈیا نے افغانستان کے راستے جو کچھ پاکستان اور پاکستانیوں کے ساتھ کرنے کی کوشش کی، الحمدللہ ہماری قربانیوں کے عوض وہ اسمیں کامیاب تو نہیں ہو سکا لیکن وہ ہمیں یہ سمجھا گیا ہے امن کی آشا کے چکر میں وہ کبھی بھی پیٹھ میں چھرا گھونپ سکتا ہے۔
کشمیر میں سٹیٹس کی تبدیلی یہ ایک ایسا سگنل ہے جو انھوں نے سمجھ لیا ہے کہ اب خطے میں آگے کیا کچھ ہونے جا رہا ہے۔
ہمیں اپنے افواج اور اداروں پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ اپنے اس ادھار کو سود سمیت ہندوستان کو واپس چکایئں گے جو وہ پچھلے بیس سالوں سے افغانستان کے راستے ہمیں دیتے رہے ہیں۔
ہمیں افغانستان میں تمام قوتوں کو ایک ٹیبل پر بیٹھا کر ایک پر امن افغانستان کے لیے محنت کرنے کی ضرورت ہے اسی راستے سے پاکستان میں دوبارہ امن کی راہ، الحمدللہ، کافی حد تک کھل چکی ہے اور باقی بھی کھل جائے گی۔
ہمیں اپنے افغان بھائیوں کو اپنے عمل اور کردار سے یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ہم آپکے خیر خواہ ہیں اور آپکی طرح امن کے متلاشی ہیں، آپ لوگ اپنے ملک میں جس کو بھی اقتدار سونپ دو گے ہم پورے دل وجان سے اپنی اور آپکی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے کوشاں رہیں گے۔ ہمارے دوست اور دشمن مشترک
ہیں ہم مسلمان ہیں اور ہمارے دکھ درد سانجھے ہیں۔
اللہ پاک سے دعا وہی ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ سے مانگی تھی
آیت 126. اور جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب! اس (جگہ) کو ایک امن والا شہر بنا دے اور اس کے رہنے والوں کو پھلوں سے رزق دے، جو ان میں سے اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے۔ فرمایا اور جس نے کفر کیا تو میں اسے بھی تھوڑا سا فائدہ دوں گا، پھر اسے آگ کے عذاب کی طرف بے بس کروں گا اور وہ لوٹنے کی بری جگہ ہے۔

No comments:
Post a Comment