معزز قارئین
ہمارے حکمران لوگ جب بھی ملک پاکستان میں کرپشن کر تے ہیں تو عموما پیسے کو چھپانے کے لیے یا تو سوئس بنکس کا استعمال کیا جاتا ہے یا پھر کویئ آف شور کمپنی بنا کر اس پیسے کی حقیقت کو دبا دیا جاتا ہے پھر اس پیسے سے انہیں ممالک میں اپنا پورا ایک لائف سٹائل سیٹ کر لیا جاتا ہے ،جبکہ عوام کو مزید بیوقوف بنانے کے حربے تلاش کیے جاتے ہیں۔
ہمارے جیسے ملک میں جہان ملک کی اکانومی کو چلانے کی خاطر بھاری قرض لینے پڑتے ہیں،جہاں ملک و قوم کی عزت گروی رکھی جاتی ہے اور ان قرضوں سے ہمارے حکمران ایسے ایسے پروجیکٹس لاتے ہیں کی جہان انہیں ان پروجیکٹس کے عوض اچھا کمیشن اور ککبیکس ملتے ہیں جبکہ ہمارے ملک کے اہم اور توجہ طلب مسائل سے صرف نظر کیا جاتا رہا ہے۔
میرا جب بھی ماضی کے کسی ایسے پروجیکٹس پر سے گزر ہوتا ہے تو میں یہ سو چتا ہوں کہ جن لوگوں نے پاکستان بنایا اور یہ پروجیکٹس شروع کیے جبکہ اس وقت ملک کو انکی اتنی شاید ضرورت بھی نہیں تھی تو وہ لوگ کتنے بے لوث تھے کہ انہوں نے نہ صرف اپنا سوچا بلکہ آنے والی نسلوں کا بھی سوچ کر گئے۔
پاکستان میں حکمران چاہے وہ سویلین تھے یا فوجی،انہوں نے اس ملک کے لیے ایک لانگ ٹرم سٹرٹیجی پر کام زیادہ نہیں کیا،یا تو انہوں نے آنے والے الیکشنز جیتنے کا سوچا یا اپنے اقتدار کو طول دینے کا سوچا۔
یہی وجہ ہے کہ ہم پاکستانی اس لحاظ سے بدقسمت ثابت ہوئے کہ ہمارے سے بعد میں یا ہمارے ساتھ آزاد ہونے والےممالک ہم سے آگے نکل گئے اور ہم اس کی وجہ ماسوائے یہ کہ “یہ جو کروا رہا ہے امریکہ کروا رہا ہے یا یہودی سازش” کے سوا کچھ بھی نہ ڈھونڈ پائے۔
اس کالم کا عنوان چونکہ کرپشن اور اس سے لوٹی گئی دولت ہے تو اس ضمن میں برطانیہ جہاں اکثر حکمران لوٹ کا پیسہ جمع کرتے ہیں اور پناہ بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ان ممالک میں غریب ممالک شامل ہوتے ہیں وہاں اس طرح کے پیسے کو لے کر برطانیہ پر بہت تنقید کی گیئ ہے کہ ایسا ملک جو اپنے ملک میں تو کرپشن کرنے،اختیارات کا ناجائز استعمال اور منی لانڈرنگ جیسے جرائم پر تو سخت قوانین لاگو کرتا ہے لیکن ان غریب ممالک کے حکمرانوں کی کرپشن اور برطانیہ میں انکے جمع کردہ کالے دھن پر خاموشی اختیار کیے رکھتا ہے ۔ ایسی دولت اور ایسے حکمرانوں پر برطانیہ اب ایک نیا قانون بنایا ہے جسکا نامThe Global Anti-Corruption Sanctions Regulations 2021 رکھا ہے۔ اس قانون کو برطانیہ نے اپریل 2021 میں نافذ کیا ہے اس قانون کے تحت برطانیہ نے 5 ایسے لوگوں پر پابندیاں بھی لگایئں ہیں جو ناصرف غریب ممالک سے تعلق رکھتے تھے بلکہ انھوں نے ان ممالک میں اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے پیسا بنایا اور اس پیسے کو برطانیہ میں لے آئے اور اسی پیسے سے اپنا ایک لگزری لائف سٹائل سیٹ کر لیا ۔ اہم بات یہاں یہ ہے کہ کیا اس نئے قانون کا پاکستانی کرپٹ حکمرانوں پر ہو گا ؟ اس قانون کے اثرات اور اسکے مضمرات کیا ہونگے۔
اس قانون کے بننے کا بیک گراونڈ جیسے پہلے میں نے بتایا کہ برطانیہ پر یہ انگلی اٹھتی رہی ہے اور یہ آواز اہم گلوبل فاینیشل اداروں کی جانب سے اٹھائی جاتی رہی ہے کہ برطانیہ ایک ایسا ملک ہے جو
غریب ملکوں کے کرپٹ حکمرانوں اور انکی بد عنوانیوں کو انکے کرتوںسمیت چھتری فراہم کرتا ہے اور اس پیسے کو وہ برطانیہ میں انویسٹ کر کے آف شور کمپنیز کی شکل دے دیتے ہیںاور برطانیہ نے اپنے قانون میں ایسے لوگوں کے لیےجگہ چھوڑ رکھی ہے ۔ اس طرح پیسے کا فلو امیر سے غریب ممالک کی بجائے غریب سے امیر ممالک کی طرف ہوجاتا ہے جو کہ ایک بہت غیر منصفانہ بات ہے۔اس اہم معاملے پروزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بھی جب وہ وزیر اعظم بنے تھے اور اس کی بعد مسلسل تنقید کی گئی تھی اس معاملے کو انھوں نے وزیر اعظم برطانیہ بورس جانسن اور امیریکی صدر سے بھی کی کہ غریب ملکوں کا وہ پیسا جو انکی ڈیویلمپنٹ پر لگنا چاہیے اس پیسے میں کرپشن کر کےکرپٹ حکمران وہ پیسا امیر ممالک میں لے جاتے ہیں نہ صرف وہ پیسا واپس کیا جائے بلکہ ایسے لوگوں پر پابندیاں بھی لگائی جایئں ۔
اب برطانیہ نے اس نئے قانون جسکا نام عالمی انسداد بدعنوانی پابندیوں کے ضوابط2021 رکھا گیا ہے اور 5افراد پر اس قانون کے تحت پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں ان افراد کا تعلق گیانا،زمبابوے،وینزویلااور عراق سے ہے اور یہ تمام افراد وہاں کی سیاسی اشرافیہ ہیں ۔برطانیہ کے سیکریٹری خارجہ نے ان لوگوں پر پابندیوں کا اعلان کیا ہے ان لوگوں کی اثاثے منجمد اور ان کےاوپر سفری پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں سیکریٹری خارجہ مطابق “یہ پابندیاں ان لوگوں پر لگائی جاتی ہیں جنہوں نے اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال کرتے ہویے منی لانڈرنگ اور کرپشن کی اور اپنے ممالک اور وہاں کی عوام کو غیر معمولی نقصان پہنچایا۔
اگر اسی بات کو لے کر پاکستانی حکمرانوں کو دیکھا جائے توکئی نام ذہنوں میں آتے ہیں جن میں شریف خاندان اور انکے بچے جنہوں نے بالکل یہی طریقہ استعمال کیا ہے،اس کے علاوہ زرداری خاندان انھوں نے بھی یہی کیا ہے اگر انکی اومنی سکینڈل پر نظر دوڑایئں یا فیک اکاونٹس کو دیکھیں اور یہ بات دیکھیں کہ سرے میں محل رہا ہے انکا اور فرانس میں بھی انکی پراپرٹی تھی لیکن سوال پوچھنے پر انکے پاس جواب نہی ہے کہ یہ پیسا انکے پاس کہاں سے آیا بلکہ لندن میں عابد شیر علی تو لڑ پڑے اور بھرے ریسٹورنٹ میں مغلظات بکتے رہے۔
ابتدائی طور پر اپریل 2021 میں اس قانون کا نفاذ عمل میں لایا گیا اور 21 افراد جو کہ روس،جنوبی افریقہ،لاطینی امریکہ،سوڈان اور دیگر ممالک سے ہے۔ برطانیہ کی اس فہرست میں 78 افراد اور اداروں کے نام شامل ہیں ۔
پاکستان کا اس قانون پر کوئی باضابطہ طور پر رد عمل تو نہیں آیا لیکن حکومتی زرائع اس معاملے پر سنجیدہ رائے رکھتے ہیں چونکہ پاکستان میںگزشتہ 50سالوں میں جو کرپشن اور ملک سے باہر جو پیسا چوری کر کے لے جایا گیا ہے ان میں سابق حکمران،اشرافیہ،سابق بیوروکریٹ،سابق ایسٹبلشمنٹ وغیرہ شامل ہیں۔یہ پیسا ہمارے ملک کا پیسا ہے بلکہ اس میں بھارت،بنگلہ دیش،روس،سنٹرل ایشیئن ممالک اور افغانستان کی حکمران بھی شامل ہیں۔
اس قانون کا پاکستان کیسے فائدہ اٹھا سکتا ہے یہ ایک بڑا اور اہم سوال ہے۔ اس پر وزیرا عظم عمران خان کی کئی اہم فورمز پر اس نکتے کو ناصرف اٹھایا ہوا ہے بلکہ ایسے لوگوں کی نشاندہی بھی کی ہےکہ کیسے غریب ملکوں کی عوام کے ٹیکس کے پیسے سے کیسے یہ لوگ بیرون ملک جا کر عیاشیاں کرتے ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف اس وقت برطانیہ میں مقیم ہیں اور پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے انکو منی لانڈرنگ کی کیسز میں مجرم قرار دیا ہوا ہے ،وہ سزا یافتہ ہیں اور ملک سے علاج کی بہانے برطانیہ مفرور بھی ہیں،کیا وہ اس قانون کی زد میں آتے ہیں تو قانون کی سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگ یہ کہتے ہیں کہ بالکل نواز شریف اس قانون کی زد میں کسی بھی وقت آ سکتے ہیں وہ ایسے کہ انھوں نے پاکستان میں کرپشن کی ،وہ ثابت ہوئی اس کی بنا پر انکو عہدے سے ہٹایا گیا اس کے بعد انکو کو سزا بھی دی گئی۔ اگر پاکستان انکے خلاف تمام وہ ثبوت ،عدالتی فیصلہ اور علاج کے بہانے ملک سے بھاگ جانے کا معاملہ برطانیہ کے ساتھ شیئر کرتا ہے تو اس میں کوئی بعید نہیں کہ برطانیہ میں ان پر اس قانون کا نفاذ ہو جائے۔ نواز شریف کا معاملہ تھوڑا سی پیچیدگی اس طرح سے بھی ہے کہ نواز شریف نے یہ سارا پیسا اپنے بجایے اپنے بچوں کی نام پر رکھا ہوا ہے لیکن پاکستان سے یہ پیسا کیسے برطانیہ پہنچا اس کے تمام ثبوت ریاست پاکستان کے پاس موجود ہیں اور جن کی بنا پر نواز شریف کوسزا بھی سنائی گئی ہے۔ یہ کیس ماہرین کی نظر میں تھوڑا لمبا ضرور ہے لیکن پاکستان کی حکومت اگر اچھی شہرت کی حامل وکلا فرم کی خدمات حاصل کرے،جو ان قوانین کو سمجھتے ہیں اور برطانوی شہری بھی ہیں،تو اس شرط پر کہ اگر آپ ہمیں یہ لوٹ کھسوٹ کا پیسا ریکور کرواتے ہیں تو ہم آپ کو اس پیسے میں سے اتنے فیصد دے سکتے ہیں۔برطانیہ میں اس طرح کی لا فرمز موجود ہیں جو پاکستان کے لیے یہ کام کر سکتیں ہیں اور بال اب حکومت کے کورٹ میں ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات کو لے کتنی سنجیدہ ہےاور چونکہ برطانیہ میں خود سے اب اس لوٹ کھسوٹ کے پیسوں کو لے کر ہوا چل پڑی ہے پاکستانی حکومت اس اپرچونیٹی کو لے کر کتتا فائدہ اٹھاتی ہے آنے والے دنوں میں اسکا فیصلہ متوقع ہے۔


