Saturday, July 24, 2021

Global Anti-Corruption Sanctions Regulations 2021-UK's New Law and Corrupt Politicians






 معزز قارئین

 ہمارے حکمران لوگ جب بھی ملک پاکستان میں کرپشن کر تے ہیں تو عموما پیسے کو چھپانے کے لیے یا تو سوئس بنکس کا استعمال کیا جاتا ہے یا پھر کویئ آف شور کمپنی بنا کر اس پیسے کی حقیقت کو دبا دیا جاتا ہے پھر اس پیسے سے انہیں ممالک میں اپنا پورا ایک لائف سٹائل سیٹ کر لیا جاتا ہے ،جبکہ عوام کو مزید بیوقوف بنانے کے حربے تلاش کیے جاتے ہیں۔ 

ہمارے جیسے ملک میں جہان ملک کی اکانومی کو چلانے کی خاطر بھاری قرض لینے پڑتے ہیں،جہاں ملک و قوم کی عزت گروی رکھی جاتی ہے  اور ان قرضوں سے ہمارے حکمران ایسے ایسے پروجیکٹس لاتے ہیں کی جہان انہیں ان پروجیکٹس کے عوض اچھا کمیشن اور ککبیکس ملتے ہیں جبکہ ہمارے ملک کے اہم اور توجہ طلب مسائل سے صرف نظر کیا جاتا رہا ہے۔

میرا جب بھی ماضی کے کسی ایسے پروجیکٹس پر سے گزر ہوتا ہے تو میں یہ سو چتا ہوں کہ جن لوگوں نے پاکستان بنایا اور  یہ پروجیکٹس شروع کیے  جبکہ اس وقت ملک کو انکی اتنی شاید ضرورت بھی نہیں تھی تو وہ لوگ کتنے بے لوث تھے کہ انہوں نے نہ صرف اپنا سوچا بلکہ آنے والی نسلوں کا بھی سوچ کر گئے۔

پاکستان میں حکمران چاہے وہ سویلین تھے یا فوجی،انہوں نے اس ملک کے لیے ایک لانگ ٹرم  سٹرٹیجی پر کام زیادہ نہیں کیا،یا تو انہوں نے آنے والے الیکشنز جیتنے کا سوچا یا اپنے اقتدار کو طول دینے کا سوچا۔ 

یہی وجہ ہے کہ ہم پاکستانی اس لحاظ سے بدقسمت ثابت ہوئے کہ ہمارے سے بعد میں یا ہمارے ساتھ آزاد ہونے والےممالک ہم سے آگے نکل گئے اور ہم اس کی وجہ ماسوائے  یہ کہ “یہ جو کروا رہا ہے امریکہ کروا رہا ہے یا یہودی سازش” کے سوا کچھ بھی نہ ڈھونڈ پائے۔

اس کالم کا عنوان چونکہ کرپشن اور اس سے لوٹی گئی دولت ہے تو اس ضمن میں برطانیہ جہاں اکثر حکمران لوٹ کا پیسہ جمع کرتے ہیں اور پناہ بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ان ممالک میں غریب ممالک شامل ہوتے ہیں وہاں اس طرح کے پیسے کو لے کر برطانیہ پر بہت تنقید کی گیئ ہے کہ ایسا ملک جو اپنے ملک میں تو کرپشن کرنے،اختیارات کا ناجائز استعمال  اور منی لانڈرنگ جیسے جرائم پر تو سخت قوانین لاگو کرتا ہے لیکن ان غریب ممالک کے حکمرانوں کی کرپشن اور برطانیہ میں  انکے جمع کردہ کالے دھن پر خاموشی اختیار کیے رکھتا ہے ۔ ایسی دولت اور ایسے حکمرانوں پر برطانیہ اب ایک نیا قانون بنایا ہے جسکا نامThe Global Anti-Corruption Sanctions Regulations 2021 رکھا ہے۔ اس قانون کو برطانیہ نے اپریل 2021 میں نافذ کیا ہے اس قانون کے تحت برطانیہ نے  5 ایسے لوگوں پر پابندیاں بھی لگایئں ہیں جو ناصرف غریب ممالک سے تعلق رکھتے تھے بلکہ انھوں نے ان ممالک میں اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے پیسا بنایا اور اس پیسے کو برطانیہ میں لے آئے اور اسی پیسے سے اپنا ایک لگزری لائف سٹائل سیٹ کر لیا ۔ اہم بات یہاں یہ ہے کہ کیا اس نئے قانون کا پاکستانی کرپٹ حکمرانوں پر ہو گا ؟ اس قانون کے اثرات اور اسکے مضمرات کیا ہونگے۔

اس قانون کے بننے کا بیک گراونڈ جیسے پہلے میں نے بتایا کہ   برطانیہ پر یہ انگلی اٹھتی رہی ہے اور یہ آواز اہم گلوبل فاینیشل اداروں کی جانب سے اٹھائی جاتی رہی ہے کہ برطانیہ ایک ایسا ملک ہے جو   

              غریب ملکوں کے کرپٹ حکمرانوں اور انکی بد عنوانیوں کو انکے کرتوںسمیت چھتری فراہم کرتا ہے اور اس پیسے کو وہ برطانیہ میں انویسٹ کر کے آف شور کمپنیز کی شکل دے دیتے ہیںاور برطانیہ نے اپنے قانون میں ایسے لوگوں کے لیےجگہ چھوڑ رکھی ہے ۔ اس طرح پیسے کا فلو امیر سے غریب ممالک کی بجائے غریب سے امیر ممالک کی طرف ہوجاتا ہے جو کہ ایک بہت غیر منصفانہ بات ہے۔اس اہم معاملے پروزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بھی جب وہ وزیر اعظم بنے تھے اور اس کی بعد مسلسل تنقید کی گئی تھی اس معاملے کو انھوں نے وزیر اعظم برطانیہ بورس جانسن اور امیریکی صدر سے بھی کی کہ  غریب ملکوں کا وہ پیسا جو انکی ڈیویلمپنٹ پر لگنا چاہیے اس پیسے میں کرپشن کر کےکرپٹ حکمران وہ  پیسا امیر ممالک میں لے جاتے ہیں نہ صرف وہ پیسا واپس کیا جائے بلکہ ایسے لوگوں پر پابندیاں بھی لگائی جایئں ۔

اب برطانیہ نے اس نئے قانون جسکا نام عالمی انسداد بدعنوانی پابندیوں کے ضوابط2021  رکھا گیا ہے اور 5افراد پر اس قانون کے تحت پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں ان افراد کا تعلق گیانا،زمبابوے،وینزویلااور عراق سے ہے اور یہ تمام افراد وہاں کی سیاسی اشرافیہ ہیں ۔برطانیہ کے سیکریٹری خارجہ نے ان لوگوں پر پابندیوں کا اعلان کیا ہے ان لوگوں کی اثاثے منجمد اور ان کےاوپر سفری پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں سیکریٹری خارجہ مطابق “یہ پابندیاں ان لوگوں پر لگائی جاتی ہیں  جنہوں نے اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال کرتے ہویے منی لانڈرنگ اور کرپشن کی اور اپنے ممالک اور وہاں کی عوام کو غیر معمولی نقصان پہنچایا۔

اگر اسی بات کو لے کر پاکستانی حکمرانوں کو دیکھا جائے توکئی نام ذہنوں میں آتے ہیں  جن میں شریف خاندان اور انکے بچے جنہوں نے بالکل یہی طریقہ استعمال کیا ہے،اس کے علاوہ زرداری خاندان انھوں نے بھی یہی کیا ہے اگر انکی اومنی سکینڈل  پر نظر دوڑایئں یا فیک اکاونٹس کو دیکھیں  اور یہ بات دیکھیں کہ سرے میں محل رہا ہے انکا اور فرانس میں بھی انکی پراپرٹی تھی لیکن سوال پوچھنے پر انکے پاس جواب نہی ہے کہ یہ پیسا انکے پاس کہاں سے آیا بلکہ لندن میں عابد شیر علی تو لڑ پڑے اور بھرے ریسٹورنٹ میں مغلظات بکتے رہے۔

ابتدائی طور پر اپریل 2021 میں اس قانون کا نفاذ عمل میں لایا گیا اور 21 افراد جو کہ روس،جنوبی افریقہ،لاطینی امریکہ،سوڈان اور دیگر ممالک سے ہے۔ برطانیہ کی اس فہرست میں 78 افراد اور اداروں کے نام شامل ہیں ۔

پاکستان کا اس قانون پر کوئی باضابطہ طور پر رد عمل تو نہیں آیا لیکن حکومتی زرائع اس معاملے پر سنجیدہ رائے رکھتے ہیں چونکہ پاکستان میںگزشتہ 50سالوں میں جو کرپشن اور ملک سے باہر جو پیسا چوری کر کے لے جایا گیا ہے ان میں سابق حکمران،اشرافیہ،سابق بیوروکریٹ،سابق ایسٹبلشمنٹ  وغیرہ شامل ہیں۔یہ پیسا ہمارے ملک کا پیسا ہے بلکہ اس میں بھارت،بنگلہ دیش،روس،سنٹرل ایشیئن ممالک اور افغانستان کی حکمران بھی شامل ہیں۔

اس قانون کا پاکستان کیسے فائدہ اٹھا سکتا ہے یہ ایک بڑا اور اہم سوال ہے۔ اس پر وزیرا عظم عمران خان کی کئی اہم فورمز پر اس نکتے کو ناصرف اٹھایا ہوا ہے بلکہ ایسے لوگوں کی نشاندہی بھی کی ہےکہ کیسے غریب ملکوں کی عوام کے ٹیکس کے پیسے سے کیسے یہ لوگ بیرون ملک جا کر عیاشیاں کرتے ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف اس وقت برطانیہ میں مقیم ہیں اور پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے انکو منی لانڈرنگ کی کیسز میں مجرم قرار دیا ہوا ہے ،وہ سزا یافتہ ہیں اور ملک سے علاج کی بہانے برطانیہ مفرور بھی ہیں،کیا وہ اس قانون کی زد میں آتے ہیں تو قانون کی سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگ یہ کہتے ہیں کہ بالکل نواز شریف اس قانون کی زد میں کسی بھی وقت آ سکتے ہیں وہ ایسے کہ انھوں نے پاکستان میں کرپشن کی ،وہ ثابت ہوئی اس کی بنا پر انکو عہدے سے ہٹایا گیا اس کے بعد انکو  کو سزا بھی دی گئی۔ اگر پاکستان انکے خلاف تمام وہ ثبوت ،عدالتی فیصلہ اور علاج کے بہانے ملک سے بھاگ جانے کا معاملہ برطانیہ کے ساتھ شیئر کرتا ہے تو اس میں کوئی بعید نہیں کہ برطانیہ میں ان پر اس قانون کا نفاذ ہو جائے۔ نواز شریف کا معاملہ تھوڑا سی پیچیدگی اس طرح سے بھی ہے کہ نواز شریف نے یہ سارا پیسا اپنے بجایے اپنے بچوں کی نام پر رکھا ہوا ہے لیکن پاکستان سے یہ پیسا کیسے برطانیہ پہنچا اس کے تمام ثبوت ریاست پاکستان کے پاس موجود ہیں اور جن کی بنا پر نواز شریف کوسزا بھی سنائی گئی ہے۔ یہ کیس ماہرین کی نظر میں تھوڑا لمبا ضرور ہے لیکن پاکستان کی حکومت اگر اچھی شہرت کی حامل وکلا فرم  کی خدمات حاصل کرے،جو ان قوانین کو سمجھتے ہیں اور برطانوی شہری بھی ہیں،تو اس شرط پر کہ اگر آپ ہمیں یہ لوٹ کھسوٹ کا پیسا ریکور کرواتے ہیں تو ہم آپ کو اس پیسے میں سے اتنے فیصد دے سکتے ہیں۔برطانیہ میں اس طرح کی لا فرمز موجود ہیں جو پاکستان کے لیے یہ کام کر سکتیں ہیں اور بال اب حکومت کے کورٹ میں ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات کو لے کتنی سنجیدہ ہےاور چونکہ برطانیہ میں خود سے اب اس لوٹ کھسوٹ کے پیسوں کو لے کر ہوا چل پڑی ہے پاکستانی حکومت اس اپرچونیٹی کو لے کر کتتا فائدہ اٹھاتی ہے آنے والے دنوں میں اسکا فیصلہ متوقع ہے۔   

 

          



















Friday, July 23, 2021

Fear is no Policy, Surrender is no Option


 
جگر والوں کا ڈر سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا

امریکہ نے جب افغانستان میں پاکستان کے خلاف فالس فلیگ آپریشن شروع کیا پاکستانی کرتا دھرتا تو اسی وقت سے جانتے تھے کہ امریکہ یہاں کیوں آیا ہے،انڈیا کی تو جیسے لاٹری ہی کھل گئی کہ اب پاکستان پورے کا پورا گھیرا جا سکتا ہے۔انڈیا نے افغانستان میں را کے نیٹ ورک کو بنایا اور چلایا جبکہ ایران میں کلبھوشن یادیو جیسے ایجنٹس بیٹھا دیے،کراچی میں اینٹی پاکستان ایلیمنٹس کے ذریعے ہماری کمر پر سواری کرنے کی کوشش کی،بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کا پورا زور لگا دیا،ملک میں جگہ جگہ دھماکے، اغواء برائے تاوان کی وارداتیں عروج پر، تحریک طالبان بھی اپنا ظلم و ستم نہ صرف جاری رکھے ہوئے بلکہ اس میں روز بہ روز اضافہ بھی ہوتا چلا گیا۔
ایک وقت میں تو ایسا ہوتا تھا کہ خانہ خدا مساجد بھی ان کے شر سے محفوظ نہ رہ سکیں اور ملک میں نکمے ترین اور غلامانہ سوچ کے حامل حکمران طاقت میں آگئے،اور قوم دیکھتی ہے اور برداشت کر رہی ہے کہ اسی دوران پشاور میں معصوم بچوں کو انتقام کی آگ میں شہید کر دیا جاتا ہے!!!
اس دن روتے ہوئے پوری غیرت مند پاکستان قوم اور افواج نے فیصلہ کیا کہ ان ظالموں کو نہیں چھوڑیں گے اور اس جنگ کا جس میں دشمن نظروں کے سامنے موجود نہیں تھا، اسی جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔
ہماری غیرت مند افواج نے دشمنوں کو یہ پیغام دیا کہ یہ آگ کا کھیل ہم اچھی طرح کھیلنا جانتے ہیں،اب ہمارے جواب کا انتظار کرو اور اگلے ہی دن سے ایسا آپریشن ملک کے طول و عرض میں شروع ہو ا کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔ دشمنوں کے غلاموں پر ایسا وار کیا گیا اور اسکی کمین گاہوں کو تباہ کرنا شروع کر دیا گیا۔
دشمنوں کے زر خرید اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگنا شروع ہو گئے لیکن مار خور کے انتقام کا شکار ہونا شروع ہو گئے،بہت سوں کو واصل جہنم کر دیا گیا اور جو قابو کیے گئے ان میں ایک لطیف اللہ محسود بھی شامل تھا،جس نے ایسے ایسے انکشافات کیے کہ اداروں کے خدشات درست ثابت ہوگئے کہ ان سب کے پیچھے ہمارا ازلی دشمن افغانستان میں ہمارے ٹکڑوں پر پلنے والے نمک حراموں کو استعمال کر کے ہمارا خون بہا رہا ہے اور امریکی سب کچھ جانتے ہیں اور انکی پوری طرح مدد کرنے میں مصروف ہیں۔
ہم نے اس جنگ میں کم و بیش 80،000 لوگ اور 150 بلین ڈالر کا نقصان اٹھایا لیکن اپنی وجود اور اپنی غیرت کا سودا نہیں کیا،ہم نے اپنی بقا کی ایسی جنگ لڑی کہ جس میں بہت سے ممالک خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے لیکن شاید ہمارے نظریاتی دشمن یہ بات بھول گئے کہ 1947 میں ہمارے بڑوں نے جب یہ فیصلہ کیا کہ لاالہ الا اللہ کے ماننے والے لکیر کے اس پار رہیں گے اور اسی پر مر مٹیں گے تو تاریخ انسانی نے اتنی بڑی ہجرت دیکھی کہ اس سے پہلے ایسا نہیں ہوا۔اسی لاالہ الا اللہ کے ماننے والوں کی اولادوں نے اپنے وقت کی سپر طاقت سوویت یونین کو ایسی شکست فاش دی کہ وہ آج تک اپنے زخم چاٹ رہا ہے اور اسکے قبضے سے اتنے مسلمان آزاد کروائے کہ جتنے اس وقت پورے برصغیر میں آباد تھے اور "علامہ اقبال کے اس خواب تکمیل کی کہ اگر برصغیر میں ایک مسلمان ریاست بن گئی تو وہ سینٹرل ایشیا میں بسنے والے مسلمانوں کو لادین ریاست سوویت یونین کے ظلم و ستم سے آزادی دلائے گا جو پچھلے ڈیڑھ سو سال سے انکی غلامی میں پس رہے ہیں "،اس کو سچ ثابت کردکھایا۔
اسی لاالہ الا اللہ کے چاہنے والے ،ماننے والے اپنے پورے قد کے ساتھ ایک مرتبہ پھر کھڑے ہو گئے،اور امریکہ جو ایک وقت میں یہ کہہ رہا تھا کہ وہ یہ جنگ جیت رہا ہے ،کچھ ہی عرصے میں ساری دنیا نے اسکا یہ رونا سنا کہ پاکستان نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا ہے اور ہماری ممکنہ شکست کے پیچھے کوئی اور نہیں بلکہ پاکستانی مارخور ہے اور جبکہ مارخور یہ جانتا تھا کہ امریکہ کسی اور کے لیے نہیں بلکہ اس کے ملک کا شکار کرنے آیا تھا،شکاری کا رونا تو سب کے سامنے ہے کہ خود شکار ہو چکا ہے۔
تازہ خبر یہ آئی ہے کہ جب بگرام بیس امریکہ نے خالی کیا تو انکے جانے کا وقت جو طے تھا وہ صبح کے 9 بجے کا تھا کہ بگرام اتنے بجے افغان فوج کے حوالے کر دی جائے گی لیکن امریکی ایسے بھاگے کہ رات کی تاریکی میں 3 بجے کسی کو بتائے بغیر اڑان بھرلی،انکے ہواری افغان کمانڈر کو بھی نہیں پتہ چلا کہ امریکہ یہاں اب ہیں یا بھاگ چکے ہیں،وہ تو انہیں اگلے دن صبح کوئی 10 بجے پتہ چلا کہ امریکی تو رات کو ہی بھاگ گئے!
انشاءاللہ اللہ پاک اس خطے سے اپنے دین کو دوبارہ اٹھائے گا اور اپنے رسول برحق کی احادیث کو پورا فرمائے گا ۔
افواج پاکستان زندہ آباد

Afghanistan-A Graveyard of Nations


الحمدللہ، ہم پاکستانیوں کو اللہ پاک کا کروڑوں مرتبہ شکر ادا کرنا کرنا چاہیے کہ جس نے ہمیں اپنے ارادوں میں کامیاب کیا اور ایک مرتبہ پھر اس دنیا نے ملاحظہ کیا کہ ہم لوگ وہ قوم ہیں جو اپنے رب کے علاوہ کسی کی نہیں مانتے۔
کچھ عرصہ پہلے امریکہ کے ایک سی آئی اے کے سابقہ اہلکار بروس ریڈل کا انٹرویو سنا جس میں انھوں نے ببانگ دہل اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکی جس جنگ کو چارلی ولسن وار کے نام سے جانتے ہیں میں اس جنگ کو ضیا الحق کی جنگ کہتا ہوں۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ضیا الحق ایک سچے اور کھرے مسلمان تھے اور وہ وہی تھے جو یہ فیصلہ کرتے تھے کہ سوویت یونین کو کب اور کتنے زور کی چوٹ لگانی ہے! یہ وہی تھے جنہوں نے ساری مسلمان دنیا سے گوریلے افغانستان میں اکٹھے کیے،اور انکو ایک سیاسی مذہبی طور پر افغانستان میں منظم کیا،یہ فیصلہ کیا کی کس مجاہدین کے گروپ کے پاس کونسی ہتھیار ہونگے۔یہ انہیں کا فیصلہ تھا کہ آئی ایس آئی کی ٹیمیں خود افغانستان جایئں گے اور خود گوریلا مجاہدین کو منظم کریں گی اور میدان جنگ میں انہیں ہدایات جاری کریں گی اور انہیں اور لادین ریاست سوویت یونین کے خلاف جہاد کو بیسویں صدی میں ماڈرن اسلحے کے ساتھ اسلامی قوانین کے مطابق شروع کیا،یہ وہی تھے جنہوں نے سٹنگر میزائل امریکہ سے لیے اور میدان جنگ میں ہوائی توازن تبدیل کر دیا۔
یہ جنگ 1979 میں شروع ہوئی اور 1989 میں ختم ہوئی اور یہ گلوبل گیم چینجر ثابت ہوئی۔ اس جنگ سے پہلے 1942 سے لے کر 1979 تک سوویت یونین نے جس بھی جنگ کو شروع کیا وہ اس نے جنگ کا اختتام اپنی جیت پر ہی کیا لیکن افغان جنگ میں ایسا کیا ہوا کہ وہ جنگ نا صرف ختم کرنے پر مجبور ہوئے بلکہ اپنا وجود بھی کھو بیٹھے۔بقول انکے کہ جنرل ضیا اپنے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر کو خود ہدایات دیتے تھے کہ میں اس کام کو اس طرح ہوتا دیکھنا چاہتا ہوں۔
محترمہ بے بےنظیر بھٹو نے اپنی کتاب میں جنرل ضیا کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ انکے والد نے جنرل ضیا الحق کو چیف آف آرمی اسٹاف بنایا اور ایک مرتبہ جب وہ انکے گھر گئیں تو سارے گھر حرمین اور روضہ رسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) کی تصاویر آویزاں تھیں،وہ واپس مڑیں اور کہا کہ آپ نے اپنے گھر کو مسجد جیسا بنایا ہوا ہے،بروس ریڈل مزید کہتے ہیں کہ ضیا الحق واقعی جہاد پر یقین رکھتے تھے،اس لیے نہیں کہ سوویت یونین کا افغانستان میں آنا پاکستان کے لیے ایک خطرہ تھا بلکہ وہ دنیا میں لادین ریاست کے وجود کے خلاف جہاد کو پر مسلمان کا فرض سمجھتے تھے۔
آج پھر تاریخ نے اپنے آپ کو دہرایا اور ایک خدا کے ماننے والوں نے دنیا پر ثابت کر دیا کہ اللہ پر یقین سے بڑھ کر کوئی دوسری چیز نہیں!
آج پھر افغانستان جسے سلطنتوں کا قبرستان کہا جاتا ہے، نے ایک اور سلطنت کی قبر کھود دی ہے اب صرف یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ میت کی تدفین کب اور کس وقت ہونی ہے۔
پاکستانی قوم،افواج اور ہمارے اداروں نے اپنے کردار سے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ چاہے ہمارا بازو مروڑا جائے یا ہم سے مطالبات کی بھرمار کر دی جائے ہم میدان جنگ میں اپنے کام کو اپنے انداز سے ہی کرتے ہیں۔
ہم نے اپنے بارڈر پر اپنا پیٹ کاٹ کر باڑ بھی نصب کر دی ہے اور آنے جانے کا طریقہ کار بھی متعین کر دیا ہے۔ افغانستان میں موجود بھارتی بھی امریکہ کے بعد اپنے "سفارت کاروں اور کام کرنے والے شہریوں" کو لے کر اور اپنا سامان چھوڑ کر بھاگ نکلے ہیں اور اپنے دو عدد سفارت خانے جلال آباد اور بامیان میں بند کر دیے ہیں۔ یہ جنگ امریکہ کے لیے تو شاید ختم ہو چکی ہے لیکن انڈیا کے لیے شاید یہ ختم نہیں ہوئی کیونکہ پچھلے بیس سالوں میں انڈیا نے افغانستان کے راستے جو کچھ پاکستان اور پاکستانیوں کے ساتھ کرنے کی کوشش کی، الحمدللہ ہماری قربانیوں کے عوض وہ اسمیں کامیاب تو نہیں ہو سکا لیکن وہ ہمیں یہ سمجھا گیا ہے امن کی آشا کے چکر میں وہ کبھی بھی پیٹھ میں چھرا گھونپ سکتا ہے۔
کشمیر میں سٹیٹس کی تبدیلی یہ ایک ایسا سگنل ہے جو انھوں نے سمجھ لیا ہے کہ اب خطے میں آگے کیا کچھ ہونے جا رہا ہے۔
ہمیں اپنے افواج اور اداروں پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ اپنے اس ادھار کو سود سمیت ہندوستان کو واپس چکایئں گے جو وہ پچھلے بیس سالوں سے افغانستان کے راستے ہمیں دیتے رہے ہیں۔
ہمیں افغانستان میں تمام قوتوں کو ایک ٹیبل پر بیٹھا کر ایک پر امن افغانستان کے لیے محنت کرنے کی ضرورت ہے اسی راستے سے پاکستان میں دوبارہ امن کی راہ، الحمدللہ، کافی حد تک کھل چکی ہے اور باقی بھی کھل جائے گی۔
ہمیں اپنے افغان بھائیوں کو اپنے عمل اور کردار سے یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ہم آپکے خیر خواہ ہیں اور آپکی طرح امن کے متلاشی ہیں، آپ لوگ اپنے ملک میں جس کو بھی اقتدار سونپ دو گے ہم پورے دل وجان سے اپنی اور آپکی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے کوشاں رہیں گے۔ ہمارے دوست اور دشمن مشترک
ہیں ہم مسلمان ہیں اور ہمارے دکھ درد سانجھے ہیں۔

اللہ پاک سے دعا وہی ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ سے مانگی تھی
آیت 126. اور جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب! اس (جگہ) کو ایک امن والا شہر بنا دے اور اس کے رہنے والوں کو پھلوں سے رزق دے، جو ان میں سے اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے۔ فرمایا اور جس نے کفر کیا تو میں اسے بھی تھوڑا سا فائدہ دوں گا، پھر اسے آگ کے عذاب کی طرف بے بس کروں گا اور وہ لوٹنے کی بری جگہ ہے۔

Global Anti-Corruption Sanctions Regulations 2021-UK's New Law and Corrupt Politicians

 معزز قارئین  ہمارے حکمران لوگ جب بھی ملک پاکستان میں کرپشن کر تے ہیں تو عموما پیسے کو چھپانے کے لیے یا تو سوئس بنکس کا استعمال کیا جاتا ہے ...